نئی دہلی،30؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے اس بیان پر کہ ’کووڈ۔19؍ خدا کاعمل ‘ ہےان پر ہر طرف سے تنقید یں ہورہیں اورسابق وزیر خزانہ نے مختلف ٹویٹس کے ذریعے ان سے چبھتے ہوئے سوالات پوچھے ہیں۔واضح رہےکہ معیشت کی زبوں حالی پر پردہ ڈالنے اور اپنا پلہ جھاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے یہ بیان دیا تھا کہ یہ کووڈ۔19؍ کی وجہ سے ہے جو خدا کا عمل ہے۔ اس پرسابق وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبر م نے یہ سخت سوال پوچھ لیا کہ کورونا سے پہلے معیشت کی جو صورتحال تھی اس کا ذمہ دار کون ہے؟
اپنےپےدرپے ٹویٹس میں پی چدمبرم نے نرملا سیتا رمن پر نہ صرف تنقید کی ہے بلکہ ان سے کئی سوال بھی پوچھے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں چدمبرم نے کہا کہ ’’ یہ وبا اگر ’خدا کا عمل‘ ہے تو 18۔2017ء ،19۔2018ء، اور20۔2019ء میں یعنی اس وبا کے ہندوستان میں دستک دینے سے قبل جو معاشی بے قاعدگیاں ہوئی تھیں ان کا وزیر خزانہ کے پاس کیاجواب ہے۔‘‘چدمبرم نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ ’خدا کے نمائندہ ‘ کی حیثیت سے اس سوال کا جواب دیں۔
اپنے دوسرے ٹویٹ میں چدمبرم نے کہا کہ ریاستوں کو دئیے جانے والے جی ایس ٹی معاوضہ کےفرق کوکم کرنے کیلئے مرکزی حکومت نے جو ۲؍متبادل دئیے ہیں،وہ ناقابل قبول ہیں۔تیسرے ٹویٹ میں چدمبرم نے کہا کہ پہلے متبادل کے تحت ریاستوں کو اس شرط پررقم فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں مرکز سے جو بھی رقم لیں گی جی ایس ٹی معاوضہ کے ٹیکس کے طورپر لیںگی۔ اس طرح پورا مالی بوجھ ریاستوں پر ڈال دیاگیا ہے۔ چوتھے ٹویٹ میں سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ دوسرے متبادل کے تحت ریاستوں کو آر بی آئی سے قرض لینے کا مشورہ دیاگیا ہے۔ یہ مارکیٹ سے قرض لینے کا ہی دوسرا نام ہے۔اس سے بھی ریاستوںکے خزانہ پر بوجھ بڑھے گا ۔
چدمبرم نے اپنے پانچویں ٹویٹ میں کہا کہ ’’حکومت معاشی ذمہ داری سے اپنا دامن چھڑانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ کھلی فریب دہی اورقانون کی خلاف ورزی ہے۔